اسلام آباد، 12؍مئی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )اسلام آباد میں ایک ہندوستانی سفیر کا موبائل فون ضبط کرنے کا معاملہ سامنے آ یا ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ ہندوستانی خاتون عظمی اور ایک پاکستانی شخص کی شادی کے معاملے کی سماعت کے دوران یہ ہوا ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ جمعہ کو عظمی معاملے کی اسلام آباد کی عدالت میں سماعت ہو رہی تھی، وہاں ہندوستانی ہائی کمیشن میں تعینات فرسٹ سکریٹری ڈاکٹر پیوش سنگھ اپنے فون کے ساتھ پہنچے تھے۔بتایا جا رہا ہے کہ پاکستانی افسروں نے ان کا موبائل ضبط کر لیا، اس کے پیچھے دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ سنگھ عدالت میں جج کی تصویر کھینچنے کی کوشش کر رہے تھے،جس کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔جب معاملہ جج کے علم میں لایا گیا، تو انہوں نے اسے عدالت کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی بتایا اور انہیں تحریری طورپر معافی نامہ دینے کے لیے کہا۔سنگھ نے پہلے زبانی طور پر معافی مانگی اور اس کے بعد تحریری طورپر بھی معافی مانگی ۔ان کا کہنا تھا کہ وہ غلطی سے عدالت میں موبائل فون استعمال کر رہے تھے، جج نے ان کی معافی کو قبول کرتے ہوئے موبائل لوٹادیا۔غورطلب ہے کہ پاکستان میں عظمی نامی ایک ہندوستانی خاتون سے ایک پاکستانی ڈاکٹر نے جبرا شادی کر لی ہے۔اسی معاملے کی سماعت اسلام آباد کی عدالت میں ہو رہی ہے۔عظمی نے گزشتہ دنوں ہندوستانی ہائی کمیشن میں پناہ لی تھی، اس نے ہندوستانی افسروں کو بتایا تھا کہ کس طرح ایک پاکستانی شہری کے ساتھ شادی کرنے کے لیے بندوق تان کر ا س کو مجبور کیاگیا ، اس کو استحصال اور جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑا تھا۔عظمی نے اسلام آباد کی عدالت میں اپنے شوہر طاہر علی کے خلاف درخواست دائر کی ہے، اس نے اپنے شوہر پر تشدد اور دھمکانے کا الزام لگایا ہے۔خاتون نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرایا ہے۔عدالت کے ایک افسر نے میڈیا کو بتایا کہ خاتون نے مجسٹریٹ سے کہا کہ وہ شادی کے لیے نہیں، بلکہ اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کرنے کے لیے پاکستان آئی تھی۔